کاس گنج 30/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) یوم جمہوریہ کے موقع پر اُترپردیش کے کاس گنج میں بھڑکے تشدد میں سوشیل میڈیا کے ذریعے پھیلی افواہوں کے ہاتھوں مارے گئے راہول اپادھیائی آخرکار سامنے آگئے اور انہوں نے بتایا کہ کیسے سوشیل میڈیا پر ان کے مارے جانے کی بے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے اپنی موت کی افواہوں کا سچ سب کے سامنے رکھا اور کہا کہ میں زندہ ہوں !!
راہول نے منگل کو میڈیا کے سامنے پہنچ کر بتایا کہ جس دن تشدد بھڑکا تھا، وہ اُس دن کاس گنج میں ہی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا، "میرے کچھ دوستوں نے سوشل میڈیا پر چل رہی میرے مرنے کی خبروں کے بارے میں مجھے بتایا، لیکن میں تشدد کے وقت کاس گنج میں موجود نہیں تھا. میں اپنے گاؤں گیا تھا. میں بالکل ٹھیک ہوں۔
کاس گنج میں بھڑکے فسادات کو مزید بھڑکانے کا کام سوشیل میڈیا نے کیا، تشدد میں جان گنوانے والے ابھیشیک گُپتا (چندن) کے ساتھ ہی راہول کی موت کی خبر بھی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ حالانکہ پولس نے اُن کا پتہ لگاکر اُن سے بات کی تھی، جس سے اُن کی موت کی خبر فرضی ثابت ہوگئی تھی۔
راہول نے بتایا کہ انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ اپنی موت کی خبر کو بے بنیاد ثابت نہیں کرپارہے تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ راہول کی موت کی افواہوں کے بعد کئی اضلاع میں راہول کے لئے تعزیتی جلسے تک منعقد کیے جاچکے ہیں۔ واضح رہے کہ کاس گنج میں فسادات کے بعد انتظامیہ نے انٹرنیٹ سہولت کو بند کردیا تھا اور سوشیل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی افواہوں پر ایک طرح سے روک لگانے کی کوشش کی تھی۔
خیال رہے کہ راہول کی ہلاکت کی جعلی خبریں اور تصاویر سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوگئی تھیں.ممبئی میں 26 جنوری کو ایک حادثے میں مارے گئے دلیپ مودی کی فوٹو کو راہول اُپادھیائے بتاکر پرچار کیا گیا تھا، جس کے بعد کاس گنج کے حالات مزید بگڑ گئے تھے۔ تاہم، صورتحال اب تیزی کے ساتھ معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
اُدھر اُترپردیش حکومت نے کاس گنج کے ایس پی سنیل کمار سنگھ کو ہٹا دیا ہے. اُن کی جگہ پیوش شری واستو کو بھیجا گیا ہے. ایک ایس آئی ٹی بھی قائم کی گئی ہے جو تشدد کے معاملات کی تحقیقات کرے گی. اب تک سو سے زاید افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے. نئے ڈی جی پی اے پی سنگھ نے تمام ایس پی کو سرکولر بھیج کر کہا ہے کہ جس گروپ کی بھی غلطی سے حالات خراب ہوئے ہیں اُس گروپ کے خلاف کارروائی کرے۔